93 ملین آبادی کے ساتھ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور جی ڈی پی میں اس کا حصہ 60% حصہ ہے۔ یہ 48,000 سے زائد یونٹس کے ساتھ صنعتی شعبہ میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب مختلف مقامی ذرائع پر مبنی بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ جات میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتی ہے:
پالیسی اور ادارہ جاتی لائحہ عمل
پنجاب پاور جنریشن پالیسی- حکومت پنجاب نے اس اہم شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے پاور پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد ممکن بنایا ہے۔ پنجاب پاور پالیسی 2009ء سرکاری و نجی سیکٹر کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے تحت پاور پلانٹس کی تعمیر کے لئے لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ یہ پالیسی ہرقسم کی ٹیکنالوجی بشمول پن بجلی، کوئلہ، شمسی توانائی، ہوا اور نامیاتی مادے کی توانائی کے فروغ کے پیش نظر تشکیل دی گئی ہے۔ ہائیڈل توانائی کے منصوبہ جات کا اطلاق Buil-Own-Operate-Transfer (BOOT) کی بنیاد پر کیا جائے گا جبکہ نجی سیکٹر میں دیگر منصوبے BOOT یا پھر Build-Own- Operate (BOO) کی بنیاد پر مکمل کئے جا سکتے ہیں۔
مراعات
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو5%ڈیوٹی پر سیلز ٹیکس پر چھوٹ کے ساتھ(قابل تجدید توانائی پر 0%) پلانٹس اور سامان درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دیگر مراعات میں عمر بھر کے لئے انکم ٹیکس کی چھوٹ، منافع اور سرمایے کی مکمل واپسی، قانون کے تحت قابلِ نفاذ بین الاقوامی ایوارڈ برائے ثالثیت، ہائیدرولیجیکل خطرات حکومت کی ذمہ داری شامل ہیں۔ کم از کم 15%تک ایکٹویٹی پر واپسی شامل ہیں۔
پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ
پنجاب پاور ڈیلپمنٹ بورڈ (پی پی ڈی پی) نجی شعبے میں توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے کے لئے بطور “One Window Facilitator” قائم کیا گیا ہے۔
پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹیڈ
پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی (پی پی ڈی سی ایل)، سرکاری ادارہ جو کہ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) سے تصدیق شدہ ہے، سرکاری شعبے کے علاوہ سرکاری و نجی شراکت سے بجلی کے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
ذیل میں دئیے گئے طریقہ ہائے کار کو استعمال میں لاتے ہوئے ہم بجلی کی کمی پر قابو پا سکتے ہیں:
تیل اور گیس
صوبہ پنجاب میں تیل او رگیس کی دریافت کے لئے مقامی و بین الاقوامی کمپنوں کو بلاکس نیلامی کے لئے دستیاب ہیں۔ مزید پڑھیں
ہائیڈل
پنجاب کا نام اس میں بہنے پانچ دریاؤں (ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم) کی مناسبت سے ہے۔ اس کی آبادی 90ملین سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے یہ 27. 40°/ سے 34.-01° N تک کے طول و عرض پر واقع ہے۔ تنصیبات تقریبا 21,000میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جس میں سے موجودہ 6,599 میگا واٹ ہائیڈل پاور سے حاصل ہوتا ہے۔ ملک میں تقریبا 41,722 میگا واٹ تک پانی کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مزید پڑھیں
کوئلہ
پنجاب میں کوئلے کے زیادہ تر ذخائر پنجاب کی سالٹ رینج میں واقع ہیں۔ سنوڈن آسٹریلیا کی ایک سٹڈی کے مطابق پنجاب میں 595 ملین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ کوئلے کے تین بڑے ذخائر چار اضلاع جہلم، چکوال، خوشاب اور میانوالی میں پائے جاتے ہیں اور 30 سال کے لئے 3,700میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوئلے کے میدان خوشاب، چکوال میں دندوٹ، اور جہلم کے اضلاع کے درمیان تقریبا 260 سکوئیر کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل ہیں۔ کوئلے کے ستونوں کی موٹائی 0.3 میٹر سے 1.5میٹر جبکہ ان کی اوسط موٹائی 0.75 میٹر ہے۔
شمسی
پنجاب پاکستان آبادی کے لحاظ سے پاکستان سب سے بڑا صوبہ ہے جو 90 ملین لوگوں کی رہائش گاہ ہے۔ یہ 27. 40°/ سے 34.-01° N تک کے طول و عرض پر واقع ہے۔ تنصیبات تقریبا 21,000میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جن میں سے
دیگر قابلِ تجدید ذرائع
بایو ایندھن میں بائیو ماس اور بائیو گیس (میتھین) دونوں شامل ہیں جو بائیو ڈیگریڈیبل فضلہ سے پیدا ہوتے ہیں، یا فصل یا جانوروں کے فضلے کے استعمال سے۔ پنجاب کا زراعت اور لائیو سٹاک کا شعبہ فصلوں کی باقیات اور جانوروں کے فضلے کی شکل میں بایوماس کی وافر مقدار پیدا کرتا ہے۔ ایک بڑی شہری آبادی کے ذریعہ تیار کردہ میونسپل ٹھوس فضلہ بھی قابل استعمال میتھین گیس یا بجلی پیدا کرنے کے لئے دستیاب ہے۔ بائیو ماس کو چھوٹے اور بڑے دونوں سطحوں پر مستقبل کے اہم قابل تجدید وسائل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلے ہی دنیا کی بنیادی توانائی کی کھپت کا 14 فیصد فراہم کرتا ہے۔